امیر عبدالمالک مجاھد ۔۔۔۔۔ امیر صلاح الدین فاروقی مجاھد

10154044_1380005352278188_392121020_n

Advertisements

\

وب سایت مجاهدین ایران

تصویرتصویرجیش العدل ایران و بلوچستان

http://jaishuladl.blogspot.com/

عدالت نیوز ایران و بلوچستان

http://edaalatnews.blogspot.com/

احمدی نژاد مذہبا یہودی ہیں : پاسداران شیطانی انقلاب کی ویب سائیٹ کا دعویٰ

مشرکین ایران کے صدرمزدور نژاد کے بارے میں ان کے سیاسی حریف اور ذرائع ابلاغ ان کے یہودی ہونے کی خبریں شائع کرتے رہے ہیں.

لیکن پہلی مرتبہ مشرکین ایران کے ایک اہم ترین ذمہ دار ادارے "پاسداران شیطانی انقلاب” کی ویب سائیٹ نے صدر نژاد کو یہودی قرار دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

"العربیہ ٹی وی” کی ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران شیطانی انقلاب کی ویب سائیٹ” بصیرت” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدرمزدور نژاد اور ان کا گروہ ایک خفیہ یہودی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔

قبل ازیں سنہ 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد شیعہ رہ نما ڈاکٹر مہدی خزعلی نے الزام عائد کیا تھا کہ صدرمزدور نژاد کا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں، وہ اپنی جڑیں یہودیوں میں رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احمدی نژاد نے صرف مصلحت کی خاطر "یہود دشمنی” کا ظاہری طرز عمل اپنا رکھا ہے۔

عملا وہ یہودیوں کے قطعی طور پر مخالف نہیں۔ وہ یہودیوں اور اسرائیل کی اس لیے مخالفت کرتے ہیں تاکہ ان کی حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔

جیل میں زیر حراست ڈاکٹر مہدی خزعلی کے دعوے کی پاسداران شیطانی انقلاب کی ترجمان ویب سائیٹ "بصیرت” پر تصدیق نے ایرانی رافضی حکومتی حلقوں میں ایک نئی بے چینی پیدا کی ہے۔

مشرکین ایران کے امور پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ "بصیرت” ویب پورٹل نے احمدی نژاد کے یہودی ہونے کا دعویٰ کرکے نہ صرف ایک منفرد مثال قائم کی ہے.

بلکہ اس دعوے سے پاسداران شیطانی انقلاب میں صدر احمدی نژاد کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔

اس رپورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاسداران شیطانی انقلاب کا ایک بڑا گروہ احمدی نژاد کا حامی نہیں۔

کیونکہ اگر طاقت ور فورس بھی اس طرح کے الزامات عائد کرتی ہے تو یہ صدر پر عدم اعتماد کا برملا اظہار ہے۔

گذشتہ بُدھ کو ویب سائیٹ پر شائع ایک مضمون میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس کے پاس احمدی نژاد کے زیر زمین سرگرم یہودی تنظیم سے تعلق کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں،

یہ تمام ثبوت جلد ہی ویب سائیٹ پر شائع کر دیے جائیں گے۔

اگرچہ ویب سائیٹ پراس خفیہ گروہ کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم اس کا مختصر تعارف یہ کرایا گیا ہے.

کہ یہ تنظیم نہ صرف لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام کی ترویج کے لیے کوشاں ہے بلکہ یہ یہودیوں کی”ماسونی” نظریات کی پیروکار ایک غیر مذہبی تنظیم ہے جو ملحدانہ افکار پر یقین رکھتی ہے۔

منحرف جماعت

مشرکین ایران کے سرکردہ اپوزیشن رہ نما اور خزعلی کے فرزند مہدی خزعلی نے اپنی ویب سائیٹ پر بتایا تھا کہ صدر احمدی نژاد جس یہودی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں،

وہ آنوسی یہودیوں کی ایک منحرف جماعت ہے۔ مشرکین ایران میں اس گروہ نے شمال مشرقی شہر”مشہد” کو اپنی خفیہ سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔

اس خفیہ گروہ میں صرف احمدی نژاد ہی ایک اہم شخصیت نہیں بلکہ صدر کے پرنسپل سیکرٹری اسفند یار رحیم مشائی اور صدر کے کئی دوسرے قریبی سیاست دان بھی اسی جماعت سے وابستہ ہیں۔

مہدی خزعلی اس بات پرمُصِر ہیں کہ صدر احمدی نژاد نے مصلحت کی خاطراپنا نام تک تبدیل کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کا اصل (یہودی) نام "سابورجیان” ہے جو ان کی تاریخ پیدائش کی دستاویزات پر آج بھی موجود ہے۔

احمدی نژاد نے یہ نام تبدیل کب کیا، اس کے بارے میں بھی ان کے پاس مصدقہ ثبوت ہیں جو ان کے یہودی ہونے اور تبدیلی نام کی گواہی دیتے ہیں۔

مہدی خزعلی کا دعویٰ ہےکہ موجودہ ایرانی سرکردہ شیعہ بالخصوص مصباح یزدی اور صدر کے مشیر محمد علی رامین بھی نسلا یہودی ہیں۔

خیال رہے کہ یہودیوں کا” انوسیہ” فرقہ مذہبی تعلیمات سے الگ تھلگ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔

اس گروہ کے وابستگان اعلانیہ مذہبی رسومات ادا نہیں کرتے تاہم انہیں مذہبی عقائد سے جڑے رہنے کی ممانعت نہیں۔

وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر عبادت بھی کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر احمدی نژاد پر یہودی ہونےکے الزامات اور ان کا غیرمدلل جواب تین عشروں سے ایرانی ولایت فقیہ کے نظام کی تہہ میں اختلافات کے ابلتے لاوے کا اظہار ہے۔

ان الزامات سے ایک جانب یہ اشارہ ملتا ہے کہ خود ایرانی مذہبی گروہ اور مذہبی شخصیات ایک دوسرے کے سنگین مخالف ہیں بلکہ اس کشمکش نے مشرکین ایران کے "شیعہ شیطانی انقلاب ” پر کئی سوالیہ نشان مرتب کیے ہیں۔

ملک کے مذہبی و شیطانی پیشوا خامنہ ای ملعون کے حمایت یافتہ صدر احمدی نژاد نے مخالفین کا دلائل و براہین سے جواب دینے کے بجائے ان سے طاقت کے ذریعے نمٹنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس نے مذہبی اور مسلکی اختلافات کی خلیج کو اور بھی گہرا کیا ہے۔

اہل سنت اورمجوسی شیعوں میں اتحاد اور جوڑ کیسے ممکن ہے’

جبکہ مجوسی شیعہ’ حضرت ابوبکر’ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں’

حالانکہ اگر ان کے پاس عقل ہوتی تو وہ یہ سوچتے کہ حضرات ثلاثہ کو طعن و تشنیع کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کے مترادف ہے۔

جو گستاخ صحابہ ہے وہ گستاخ رسول بھی ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر تھے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انہوں نے آپۖ کے وزیر کا کردار ادا کیا اور آپۖ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے.

تو کیا جن کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا ہوا اس طعن و تشنیع کی روا رکھی جاسکتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو وہ حضرات ہیں کہ جنہوں نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شرکت کی’

ایسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع مجوسی شیعیت کے گمراہ اور باطل ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔

اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں کے شوہر تھے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیغمبر کے لئے اچھے ساتھی ہی اختیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔

وحید بلوچ

جہاد اكبر اور جہاد اصغر

جس حديث ميں وارد ہے كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك جنگ سے واپسى پر اپنے صحابہ كرام كو يہ فرمايا

” ہم جہاد اصغر سے جہاد اكبر كى طرف واپس آ رہے ہيں”

تو صحابہ كرام رضى اللہ عنہم نے عرض كيا:

اور كيا كفار كے ساتھ لڑائى سے بھى كوئى بڑا جہاد ہے؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” ہاں، نفس كے ساتھ جہاد كرنا”

يہ حديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح ثابت نہيں ہے.

اور اس ميں تو كوئى شك و شبہ نہيں كہ نفس كے ساتھ جہاد كرنا كفار كے ساتھ جہاد كرنے سے قبل ہے، يعنى پہلے اپنے نفس كو صحيح راستے پر لگانا ہو گا اور اس كے بعد كفار سے جہاد كرنا پڑے گا.

كيونكہ انسان اپنے نفس كے ساتھ مجاہدہ كرنے كے بعد ہى كفار كے ساتھ جہاد كر سكتا ہے، اس ليے كہ جنگ اور لڑائى كرنا نفس كے ليے ناپسنديدہ چيز ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{تم پر قتال اور لڑائى فرض كى گئى ہے حالانكہ يہ تمہيں ناپسند ہے، اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو ناپسند كرتے ہو حالانكہ وہ تمہارے ليے بہتر ہو اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو پسند كرتے ہو ليكن وہ تمہارے ليے بہتر نہ ہو اوربرى ہو،

اللہ تعالى ہى جانتا ہے تم نہيں جانتے} البقرۃ ( 216 )
ديكھيں: فتاوى منار الاسلام للشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ( 12 / 421 ).

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى جہاد كے مراتب اور درجات بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

جہاد كے چار درجے اور مراتب ہيں:

1 – نفس كے ساتھ جہاد

2 – شيطان كے ساتھ جہاد

3 – كفار كے ساتھ جہاد

4 – منافقوں كے ساتھ جہاد

اور نفس كے ساتھ جہاد يہ ہے كہ اس كے ساتھ ہدايت كا علم حاصل كرنے ميں جہاد كيا جائے،

اور علم حاصل كرنے كے بعد عمل كيا جائے، اور اس علم كى دوسرے لوگوں كو دعوت بھى دى جائے،

اور دعوت و تبليغ كى مشقت پر صبر و تحمل كا مظاہرہ كيا جائے.

شيطان كے ساتھ جہاد يہ ہے كہ: شيطان بندے كے ذہن ميں جو ايمان كو ختم كرنے كے سلسلے ميں شكوك و شبہات اور شہوات ڈالتا ہے اسے دور كرنے كى كوشش كى جائے،

اور اس كے ساتھ ان فاسد اور غلط ارادوں و شہوات كا مقابلہ كرنے ميں جہاد كيا جائے جو وہ انسان كے ذہن ميں ڈالتا ہے.

اور كفار اور منافقوں كےساتھ جہاد دل و زبان اور مال اورنفس كے ذريعہ جہاد كيا جاتا ہے،

كفار كے ساتھ ہاتھ كا جہاد زيادہ خاص ہے، اور منافقوں كے ساتھ زبانى جہاد زيادہ خاص ہے…

وہ كہتے ہيں: سب سے زيادہ كامل اخلاق والا وہ شخص ہے جس نے جہاد كے سارے مراتب اوردرجات مكمل كيےہوں،

اور مخلوق جہاد كے مراتب ميں مختلف ہونى كى بنا پر مرتبہ اور درجات كے اعتبار سے بھى اللہ تعالى كے ہاں مختلف ہيں.

اھـ
ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم ( 3 / 9 – 12 ).
واللہ اعلم

سعودی عرب سمیت بیشتر عرب یاستوں میں کل سے رمضان المبارک کا اعلان

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے آج اتوار کو شعبان المعظم کی آخری تاریخ قرار دیتے ہوئے کل پیر سے رمضان المبارک کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر خلیجی و عرب ملکوں مصر، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، یمن، سوڈان، بحرین، شام اور فلسطین میں بھی آج رات رمضان لمبارک کا چاند نظر ا جائے گا جس کے بعد کل ان ممالک میں پہلا روز ہو گا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے رمضان المبارک کے اعلان سے پہلے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کے لیے قائم حکومتی کمیٹی نے رمضان المبارک کے دوران صلواۃ تراویح کے لیے آئمہ کے پینل کا چناؤ کیا ہے۔

اس سال مسجد حرم میں نماز تراویح کی امامت کے فرائض کے لیے پانچ قراء کے نام سامنے آئے ہیں۔

رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں شیخ عبداللہ بن عواد الجھنی، شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس، دوسرے عشرے میں الشیخ سعود بن ابراھیم الشریم اور شیخ ماہربن حمد المعیقلی، جبکہ تیسرے عشرے کی نماز تراویح کی امامت شیخ عبداللہ بن حمد عواد الجھنی اور الشیخ قاری ماہر بن حمد بن معیقلی کرائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران حسب معمول پہلا جمعہ شیخ صالح بن محمد آل طالب، دوسرا جمعہ ڈاکٹر اسامہ بن عبداللہ خیاط، تیسرا ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید اور چوتھا اور آخری جمعہ شیخ سعود بن ابراھیم الشریم جبکہ ختم قرآن کی امامت عبدالرحمان السدیس کرائیں گے۔