Posted on 06/08/2011 by daaljan

مشرکین ایران کے صدرمزدور نژاد کے بارے میں ان کے سیاسی حریف اور ذرائع ابلاغ ان کے یہودی ہونے کی خبریں شائع کرتے رہے ہیں.
لیکن پہلی مرتبہ مشرکین ایران کے ایک اہم ترین ذمہ دار ادارے “پاسداران شیطانی انقلاب” کی ویب سائیٹ نے صدر نژاد کو یہودی قرار دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
“العربیہ ٹی وی” کی ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران شیطانی انقلاب کی ویب سائیٹ” بصیرت” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدرمزدور نژاد اور ان کا گروہ ایک خفیہ یہودی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔
قبل ازیں سنہ 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد شیعہ رہ نما ڈاکٹر مہدی خزعلی نے الزام عائد کیا تھا کہ صدرمزدور نژاد کا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں، وہ اپنی جڑیں یہودیوں میں رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ احمدی نژاد نے صرف مصلحت کی خاطر “یہود دشمنی” کا ظاہری طرز عمل اپنا رکھا ہے۔
عملا وہ یہودیوں کے قطعی طور پر مخالف نہیں۔ وہ یہودیوں اور اسرائیل کی اس لیے مخالفت کرتے ہیں تاکہ ان کی حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔
جیل میں زیر حراست ڈاکٹر مہدی خزعلی کے دعوے کی پاسداران شیطانی انقلاب کی ترجمان ویب سائیٹ “بصیرت” پر تصدیق نے ایرانی رافضی حکومتی حلقوں میں ایک نئی بے چینی پیدا کی ہے۔
مشرکین ایران کے امور پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ “بصیرت” ویب پورٹل نے احمدی نژاد کے یہودی ہونے کا دعویٰ کرکے نہ صرف ایک منفرد مثال قائم کی ہے.
بلکہ اس دعوے سے پاسداران شیطانی انقلاب میں صدر احمدی نژاد کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔
اس رپورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاسداران شیطانی انقلاب کا ایک بڑا گروہ احمدی نژاد کا حامی نہیں۔
کیونکہ اگر طاقت ور فورس بھی اس طرح کے الزامات عائد کرتی ہے تو یہ صدر پر عدم اعتماد کا برملا اظہار ہے۔
گذشتہ بُدھ کو ویب سائیٹ پر شائع ایک مضمون میں مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس کے پاس احمدی نژاد کے زیر زمین سرگرم یہودی تنظیم سے تعلق کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں،
یہ تمام ثبوت جلد ہی ویب سائیٹ پر شائع کر دیے جائیں گے۔
اگرچہ ویب سائیٹ پراس خفیہ گروہ کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم اس کا مختصر تعارف یہ کرایا گیا ہے.
کہ یہ تنظیم نہ صرف لبرل اور سرمایہ دارانہ نظام کی ترویج کے لیے کوشاں ہے بلکہ یہ یہودیوں کی”ماسونی” نظریات کی پیروکار ایک غیر مذہبی تنظیم ہے جو ملحدانہ افکار پر یقین رکھتی ہے۔
منحرف جماعت
مشرکین ایران کے سرکردہ اپوزیشن رہ نما اور خزعلی کے فرزند مہدی خزعلی نے اپنی ویب سائیٹ پر بتایا تھا کہ صدر احمدی نژاد جس یہودی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں،
وہ آنوسی یہودیوں کی ایک منحرف جماعت ہے۔ مشرکین ایران میں اس گروہ نے شمال مشرقی شہر”مشہد” کو اپنی خفیہ سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔
اس خفیہ گروہ میں صرف احمدی نژاد ہی ایک اہم شخصیت نہیں بلکہ صدر کے پرنسپل سیکرٹری اسفند یار رحیم مشائی اور صدر کے کئی دوسرے قریبی سیاست دان بھی اسی جماعت سے وابستہ ہیں۔
مہدی خزعلی اس بات پرمُصِر ہیں کہ صدر احمدی نژاد نے مصلحت کی خاطراپنا نام تک تبدیل کر رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کا اصل (یہودی) نام “سابورجیان” ہے جو ان کی تاریخ پیدائش کی دستاویزات پر آج بھی موجود ہے۔
احمدی نژاد نے یہ نام تبدیل کب کیا، اس کے بارے میں بھی ان کے پاس مصدقہ ثبوت ہیں جو ان کے یہودی ہونے اور تبدیلی نام کی گواہی دیتے ہیں۔
مہدی خزعلی کا دعویٰ ہےکہ موجودہ ایرانی سرکردہ شیعہ بالخصوص مصباح یزدی اور صدر کے مشیر محمد علی رامین بھی نسلا یہودی ہیں۔
خیال رہے کہ یہودیوں کا” انوسیہ” فرقہ مذہبی تعلیمات سے الگ تھلگ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔
اس گروہ کے وابستگان اعلانیہ مذہبی رسومات ادا نہیں کرتے تاہم انہیں مذہبی عقائد سے جڑے رہنے کی ممانعت نہیں۔
وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر عبادت بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر احمدی نژاد پر یہودی ہونےکے الزامات اور ان کا غیرمدلل جواب تین عشروں سے ایرانی ولایت فقیہ کے نظام کی تہہ میں اختلافات کے ابلتے لاوے کا اظہار ہے۔
ان الزامات سے ایک جانب یہ اشارہ ملتا ہے کہ خود ایرانی مذہبی گروہ اور مذہبی شخصیات ایک دوسرے کے سنگین مخالف ہیں بلکہ اس کشمکش نے مشرکین ایران کے “شیعہ شیطانی انقلاب ” پر کئی سوالیہ نشان مرتب کیے ہیں۔
ملک کے مذہبی و شیطانی پیشوا خامنہ ای ملعون کے حمایت یافتہ صدر احمدی نژاد نے مخالفین کا دلائل و براہین سے جواب دینے کے بجائے ان سے طاقت کے ذریعے نمٹنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس نے مذہبی اور مسلکی اختلافات کی خلیج کو اور بھی گہرا کیا ہے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 02/08/2011 by daaljan

جبکہ مجوسی شیعہ’ حضرت ابوبکر’ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں’
حالانکہ اگر ان کے پاس عقل ہوتی تو وہ یہ سوچتے کہ حضرات ثلاثہ کو طعن و تشنیع کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کے مترادف ہے۔
جو گستاخ صحابہ ہے وہ گستاخ رسول بھی ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر تھے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انہوں نے آپۖ کے وزیر کا کردار ادا کیا اور آپۖ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے.
تو کیا جن کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا ہوا اس طعن و تشنیع کی روا رکھی جاسکتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو وہ حضرات ہیں کہ جنہوں نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شرکت کی’
ایسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع مجوسی شیعیت کے گمراہ اور باطل ہونے کی ایک واضح دلیل ہے۔
اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں کے شوہر تھے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیغمبر کے لئے اچھے ساتھی ہی اختیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔
وحید بلوچ
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 31/07/2011 by daaljan

جس حديث ميں وارد ہے كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك جنگ سے واپسى پر اپنے صحابہ كرام كو يہ فرمايا
” ہم جہاد اصغر سے جہاد اكبر كى طرف واپس آ رہے ہيں”
تو صحابہ كرام رضى اللہ عنہم نے عرض كيا:
اور كيا كفار كے ساتھ لڑائى سے بھى كوئى بڑا جہاد ہے؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” ہاں، نفس كے ساتھ جہاد كرنا”
يہ حديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح ثابت نہيں ہے.
اور اس ميں تو كوئى شك و شبہ نہيں كہ نفس كے ساتھ جہاد كرنا كفار كے ساتھ جہاد كرنے سے قبل ہے، يعنى پہلے اپنے نفس كو صحيح راستے پر لگانا ہو گا اور اس كے بعد كفار سے جہاد كرنا پڑے گا.
كيونكہ انسان اپنے نفس كے ساتھ مجاہدہ كرنے كے بعد ہى كفار كے ساتھ جہاد كر سكتا ہے، اس ليے كہ جنگ اور لڑائى كرنا نفس كے ليے ناپسنديدہ چيز ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
{تم پر قتال اور لڑائى فرض كى گئى ہے حالانكہ يہ تمہيں ناپسند ہے، اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو ناپسند كرتے ہو حالانكہ وہ تمہارے ليے بہتر ہو اور ہو سكتا ہے تم كسى چيز كو پسند كرتے ہو ليكن وہ تمہارے ليے بہتر نہ ہو اوربرى ہو،
اللہ تعالى ہى جانتا ہے تم نہيں جانتے} البقرۃ ( 216 )
ديكھيں: فتاوى منار الاسلام للشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ( 12 / 421 ).
ابن قيم رحمہ اللہ تعالى جہاد كے مراتب اور درجات بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:
جہاد كے چار درجے اور مراتب ہيں:
1 – نفس كے ساتھ جہاد
2 – شيطان كے ساتھ جہاد
3 – كفار كے ساتھ جہاد
4 – منافقوں كے ساتھ جہاد
اور نفس كے ساتھ جہاد يہ ہے كہ اس كے ساتھ ہدايت كا علم حاصل كرنے ميں جہاد كيا جائے،
اور علم حاصل كرنے كے بعد عمل كيا جائے، اور اس علم كى دوسرے لوگوں كو دعوت بھى دى جائے،
اور دعوت و تبليغ كى مشقت پر صبر و تحمل كا مظاہرہ كيا جائے.
شيطان كے ساتھ جہاد يہ ہے كہ: شيطان بندے كے ذہن ميں جو ايمان كو ختم كرنے كے سلسلے ميں شكوك و شبہات اور شہوات ڈالتا ہے اسے دور كرنے كى كوشش كى جائے،
اور اس كے ساتھ ان فاسد اور غلط ارادوں و شہوات كا مقابلہ كرنے ميں جہاد كيا جائے جو وہ انسان كے ذہن ميں ڈالتا ہے.
اور كفار اور منافقوں كےساتھ جہاد دل و زبان اور مال اورنفس كے ذريعہ جہاد كيا جاتا ہے،
كفار كے ساتھ ہاتھ كا جہاد زيادہ خاص ہے، اور منافقوں كے ساتھ زبانى جہاد زيادہ خاص ہے…
وہ كہتے ہيں: سب سے زيادہ كامل اخلاق والا وہ شخص ہے جس نے جہاد كے سارے مراتب اوردرجات مكمل كيےہوں،
اور مخلوق جہاد كے مراتب ميں مختلف ہونى كى بنا پر مرتبہ اور درجات كے اعتبار سے بھى اللہ تعالى كے ہاں مختلف ہيں.
اھـ
ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم ( 3 / 9 – 12 ).
واللہ اعلم
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 31/07/2011 by daaljan

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے آج اتوار کو شعبان المعظم کی آخری تاریخ قرار دیتے ہوئے کل پیر سے رمضان المبارک کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ دیگر خلیجی و عرب ملکوں مصر، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، یمن، سوڈان، بحرین، شام اور فلسطین میں بھی آج رات رمضان لمبارک کا چاند نظر ا جائے گا جس کے بعد کل ان ممالک میں پہلا روز ہو گا۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے رمضان المبارک کے اعلان سے پہلے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کے لیے قائم حکومتی کمیٹی نے رمضان المبارک کے دوران صلواۃ تراویح کے لیے آئمہ کے پینل کا چناؤ کیا ہے۔
اس سال مسجد حرم میں نماز تراویح کی امامت کے فرائض کے لیے پانچ قراء کے نام سامنے آئے ہیں۔
رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں شیخ عبداللہ بن عواد الجھنی، شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس، دوسرے عشرے میں الشیخ سعود بن ابراھیم الشریم اور شیخ ماہربن حمد المعیقلی، جبکہ تیسرے عشرے کی نماز تراویح کی امامت شیخ عبداللہ بن حمد عواد الجھنی اور الشیخ قاری ماہر بن حمد بن معیقلی کرائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران حسب معمول پہلا جمعہ شیخ صالح بن محمد آل طالب، دوسرا جمعہ ڈاکٹر اسامہ بن عبداللہ خیاط، تیسرا ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید اور چوتھا اور آخری جمعہ شیخ سعود بن ابراھیم الشریم جبکہ ختم قرآن کی امامت عبدالرحمان السدیس کرائیں گے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 27/07/2011 by daaljan

جنداللہ کے بنیادی مقصداہلسنت کے حق و حقوق اور رافضی فوجوں کو نقصان پہنچاتے رہنا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ہم کسی ایک منصوبے پر ہی کام نہیں کرتے بلکہ ضرورت کے مطابق اپنے منصوبوں کی تشکیل کرتے ہیں ۔
اپنی قوت کو بچا کر اچانک اور انتہائی خفیہ حکمت عملی کے تحت رافضی حکومت پر حملے کرناہماری پالیسی کا حصہ ہے ۔
ذرائع ابلاغ کا درست استعمال نصف کامیابی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ مجاہدین کی بہت ہی کم کامیابیوں کو نشر کر پاتے ہیں ۔
مشرکین ایران نے تمام خبر رساں اداروں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے ۔ انٹرنیٹ پر بھی مشرکین ایران نے پاپندی لگا دی ہے ۔
اللہ رب العـــزت کی شان یہ ہے کہ وہ ظالــم کو لمبی چھوٹ دیتا ہے،اور اسکے اسباب میں سے ایک سبب یہ ہوتا ہے کہ اپنی مخلوق میں ظالم کے ظلم کا شکار ہونے والوں کو اسکا دشمن بنا دیتا ہے،جب قومیں ظالم اور حق غصب کرنے والی بن جائیں تو اجتماعی عذاب نازل ہوتا ہے۔
اللہ کا قانون ہے جہاں بیحیائی پھلتی ہے وہاں قتل و غارت گری ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
تہران میں رافضی بیحیائی کے اڈے چلانے والے خود کو ماڈریٹ اور ماڈرن اوراہلسنت کے شریف لوگوں کو جاہل اور انپڑھ سمجھتے ہیں،
بیشک میرا رب بہترین انصاف کرنے والا ہے،جو لوگ احسان بھول جائیں،جو لوگ اپنی اصلیت بھول جائیں،
جو لوگ اپنے ماضی سے انکار کردیں ان کا کوئی مستقبل بھی نہیں ہوتا،اگر فلسطینوں کا حق چھین کر اسرائیل غاصب کہلاتا ہے تو اہلسنت کے حق مارنے والی جماعت مشرکین ایران کے رافضی حق پرست کیسے ہوسکتی ہے؟
اگر فلسطین اپنی زمین سے نکل جانے کا کہے تو وہ جائز عمل اور اگراہلسنت اپنی زمین کو تقسیم نہ ہونے دے تو وہ ظالم کس بنیاد پر ہوا؟
لیکن بحث کی کوئی حدود نہیں ہوتیں ہم انصاف کے لئے اللہ کو پکارتے ہیں اور بیشک وہ انصاف کرنے والا مہربان رب ہے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 26/07/2011 by daaljan
Posted on 26/07/2011 by daaljan
Posted on 26/07/2011 by daaljan

شام کے ایک بڑے اور صدر بشار الاسد کے مخالفین کا گڑھ سمجھے جانے والےشہر حمص میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے,
جس میں سیکیورٹی فورسز کو شہر کی ایک بڑی جامع مسجد کے امام وخطیب سے توہین آمیز انداز میں پوچھ گچھ کرتےدکھا یا گیا ہے۔
ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے علاقے میں شیعہ۔ سنی فسادات پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو کلپ کسی موبائل فون کے کیمرے کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
جسے موبائل فون ہی کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے حمص میں باب عمر کی جامع مسجد عبدالقادر جیلانی کے پیش امام الشیخ محمد مصطفیٰ کو حراست میں لے رکھا ہے۔
ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار ان سے نہایت ترش اور توہین آمیز میں الفاظ میں پوچھ گچھ کر رہا ہے۔
ایک دوسرے اہلکار کو ویڈیو میں محروس امام مسجد کو مارتے اور گالیاں دیتے دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب حمص میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ویڈیو کے منظرعام پر آتے ہی اس کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ سیکیورٹی فورسز کسی خاص مقام پر امام مسجد سے پوچھ گچھ کر رہے ہوں اور کوئی دوسرا شخص ان کی اس حالت میں ویڈیو تیار کر سکے۔
یہ ویڈیو تیار بھی خود سیکیورٹی اہلکاروں نے کی ہے اور اسے اب ریلیز کرنے اور پھیلانے کے بھی وہی ذمہ دار ہیں۔
حمص میں سرگرم انسانی حقوق کے ایک مندوب نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کی تیاری اور اسے پبلک تک پہنچانے سمیت تمام مراحل میں سیکیورٹی اہلکار ہی ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس طرح کی ویڈیوز کے منظر عام پر آنےسے فرقہ واریت کا اندیشہ ہے۔ ملک اس وقت پہلے ہی سخت کشیدگی کا شکار ہے۔
ایسے میں سیکیورٹی اہلکاروں کا اس نوعیت کا طرز عمل جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام دے سکتا ہے۔
انہوں نے شام کے وزیر مذہبی و امور مفتی اعظم سے اپیل کی کہ وہ اس شرمناک اقدام کا سختی سے نوٹس لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں افراتفری روکنے والوں کے ہاتھوں فرقہ واریت پھیلانے کے اقدام کا خود نوٹس لے۔
مفتی اعظم کا فرض ہے کہ وہ ایک عالم دین کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کے شرمناک سلوک کی پوری تحقیقات کرکے اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیں۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 25/07/2011 by daaljan

سیستان و بلوچستان کے جنوبی علاقے میں کہی مشرک ایران کے رافضی فوجی ہلاک و زخمی ہوۓ.
اور دوسری طرف یہ بھی بتای گہی ہے کہ مشرکین میں رپورٹس کے مطابق ایرانی خاتون کوہ پیما کے ٹو کی چوٹی سر کر رہی تھیں.
کہ اس دوران وہ گہری برفانی کھائی میں گر گئی جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی ہلاک ہوگئی
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 24/07/2011 by daaljan

مشرکین ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک جوہری سائنسدان کو ان کے گھر کے باہر بڑے پُراسرار انداز میں قتل کردیا گیا ہے۔
مشرکین ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی ایسنا نے اطلاع دی ہے کہ قتل ہونے والے رافضی سائنسدان کا نام داریوش رضائی تھا ،
ان کی عمر پینتیس سال تھی، انھوں نے طبیعات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی ۔
ایسنا کے بلیٹن کے مطابق ”ایک ایرانی سائنسدان کو تہران میں ان کے گھر کی دہلیز پر قتل کردیا گیا ہے اور حملے میں ان کی اہلیہ زخمی ہوگئی ہیں۔
اس کے علاوہ فوری طور پر کوئی اور تفصیل دستیاب نہیں ہو سکی ہے”۔
مشرکین ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قتل کا واقعہ دارالحکومت کے مشرقی حصے میں پیش آیا ہے اور پولیس اس کی تفتیش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران مشرکین ایران کے متعدد سائنسدانوں کو پُر اسرار انداز میں قتل کر دیا گیا ہے یا انھیں یرغمال بنایا گیا ہے۔
نومبر 2010ء میں تہران میں دوبم دھماکوں میں ملک کے ایک اعلیٰ جوہری سائنسدان مجید شہریاری قتل اور ایک اور سائنسدان فریدون عباسی دیوانی زخمی ہو گئے تھے۔
مشرکین ایران نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد پر ان دونوں بم دھماکوں اور اپنے سائنسدان کی ہلاکت کا الزام عاید کیا تھا۔
ایک اور جوہری ساہنسدان کو جنداللہ نے یرغمال کیا تھا ۔
جنوری 2010ء میں مشرکین ایران کے ایک اور جوہری سائنسدان مسعود علی محمدی ایک گھریلو ساختہ بم کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔
وہ مشرق وسطیٰ میں تجرباتی سائنسوں اور ان کے اطلاق کے منصوبے(سیسیم) پر کام کررہے تھے۔
تہران حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایجنٹوں پر اس بم دھماکے کا الزام عاید کیا تھا۔
جولائی 2010ء میں مشرکین ایران کے ایک اور جوہری تحقیق کار شہرام امیری امریکا میں ایک سال کا وقت گزارنے کے بعد وطن لوٹے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں فارسی بولنے والے امریکی سی آئی اے کے دوایجنٹوں نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا تھا اور پھر انھیں امریکا منتقل کر دیا گیا تھا۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 23/07/2011 by daaljan

مشرکین ایران: کرد علاحدگی پسندوں سے جھڑپ میں پاسداران شیطانی انقلاب کے چھے کمانڈر ہلاک ہوۓ۔
مشرکین ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کے روز مشرکین ایران اور عراق کی سرحد کے ساتھ علاحدگی پسند کردوں کے ساتھ لڑائی میں پاسداران شیطانی انقلاب کے چھے اہم کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں۔
مہلوکین میں مشرکین ایران کے شرکی و شیطانی مرکز” قُم” میں تعینات پاسداران شیطانی انقلاب کے انٹیلی جنس چیف بھی شامل ہیں۔
العربیہ ٹی وی نے ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی کرد علاحدگی پسندوں اور پاسداران شیطانی انقلاب کے درمیان جھڑپیں عراق کی سرحد کے ساتھ “سردشت” شہر میں ہوئیں۔
اس موقع پر کرد علاحدگی پسند تنظیم”حزب حیات” المعروف “بیجاک” نے پاسداران شیطانی انقلاب پر بھاری اسلحے سے حملے کیے۔
بعض میڈیا روپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی کردستان میں پاسداران شیطانی انقلاب کے عہدیداروں کی ہلاکت سڑک کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے ہوئی۔
حملے میں پانچ دیگر اہلکاروں میں ایک بریگیڈیئر جنرل بھی شامل ہے۔
بریگیڈیئر جنرل عاصمی علی بن ابی طالب بریگیڈ سے وابستہ اور قم میں انٹیلی جنس کے چیف کے عہدے پر تعینات تھا۔
خیال رہے کہ حالیہ چند دنوں سے ایرانی پاسداران شیطانی انقلاب نے “بیجاک” کے نام سے مشہور کرد علاحدگی پسند تنظیم کے عراق کے اندر موجود ٹھکانوں پر سخت حملے شروع کررکھے ہیں۔
ان حملوں کا مقصد علاحدگی پسندی کی تحریک چلانے والی کرد تنظیم کا قلع قمع کرنا ہے۔
اُدھر کُردوں کے ترجمان سمجھے جانے والے ٹی وی “نوروز” نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ لڑائی کے نتیجے میں کرد جنگجوؤں نے پاسداران شیطانی انقلاب کے ٹھکانوں اور قافلوں پرحملے کرکے ایرانی فورسز کے 57 اہلکار ہلاک کیے ہیں ۔
درایں اثناء کُردعلاحدگی پسند تنظیم”بیجاک” نے بھی پاسداران شیطانی انقلاب کے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اپنی ویب سائیٹ پر شائع ایک خبر میں علاحدگی پسند گروپ کا کہنا ہے کہ پاسداران شیطانی انقلاب کے اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ مشرکین ایران کا بین الاقوام بارڈر عبور کر کے بعد عراقی کردستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
اس دوران کُرد جنگجوؤں نے کئی گھٹنے تک ایرانی فورسز کے ساتھ مزاحمت کی، لڑائی میں پاسداران شیطانی انقلاب کے 57 اہلکار ہلاک ہوگئے جس کے بعد ایرانی فورسزسرحد پار واپس بھاگ گئیں۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 22/07/2011 by daaljan

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب الشیطان نے اپنی ڈیڑھ سو خواتین ارکان عقائد کی پختگی اورشرکی تعلیمات اور متعہ کے حصول کے لیے مشرکین ایران بھیجی ہیں۔
ایرانی سرکاری رافضی خبر رساں ایجنسی “اِرنا” نے تہران میں “مرکز برائے تربیت اطفال اور متعہ” کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے.
کہ حزب الشیطان کے خواتین ونگ”کشافۃ المہدی” سے تعلق رکھنے والی 150 نوجوان خواتین مذہبی و شیطانی مرکزمتعہ کے لیے “قُم” پہنچی ہیں جہاں انہیں اہل تشیع کے عقائد کے مطابق نہ صرف ان کی ذہن سازی کی جائے گی بلکہ ان سے متعہ بھی کیا جاۓ گا۔
اس دوران وہ امام مہدی موعود کے لیے بنائی گئی تاریخی امام بارگاہ “جامع جمکران” اور دیگر شرکی مقامات کی زیارت بھی کریں گی۔
خیال رہے کہ قم میں تاریخی امام بارگاہ جمکران کے بارے میں اہل تشیع یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ان کے رو پوش امام شیخ الحسن بن مثلہ الجمکرانی نے اپنی ” رو پوشی ” کے دوران چوتھی صدی ھجری میں امام مہدی منتظر کے حکم پر تعمیر کرائی تھی۔
مشرکین ایران میں سنہ 1979ء میں خمینی ملعون کے برپا کردہ شیعہ شیطانی انقلاب کے بعد اس شرک گاہ کی تعمیر و مرمت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔
بدھ اور جمعہ کومشرکین ایران سے اہل تشیع اس شرک گاہ میں آتے ہیں۔
ان کا یہ عقیدہ ہے کہ امام حسن الجمکرانی زندہ ہیں، وہ اسی شرکگاہ میں ہیں ان کی حاجت روائی کرتے اور ان کے بیماروں کو شفاء دیتے ہیں۔
مشرکین ایران ۔ حزب الشیطان تعلقات
مشرکین ایران میں قائم موجودہ نظام “ولایت شیطان ” اور لبنان کی شیعہ تنظیم حزب الشیطان کے درمیان نہ صرف فوجی اور اسٹریٹیجیک تعلقات قائم ہیں بلکہ حزب الشیطان کو لبنان میں ایرانی ولایت شیطان کا ترجمان خیال کیا جاتا ہے۔
حزب الشیطان کے ثقافتی، سماجی اور شرکی عقائد اور ایرانی ولایت شیطان کے پیروکاروں کے عقائد میں مماثلت پائی جاتی ہے۔
دونوں ایک دوسرے سے اکتساب فیض بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حزب الشیطان کے کنٹرول والے علاقوں میں شرکی تعلیم کے ساتھ ساتھ فارسی بھی سکھائی جاتی ہے۔
مشرکین ایران کے بیشتر اہل تشیع اور حزب الشیطان کے وابستگان خمینی ملعون اور موجودہ شیطانی پیشوا لعنت اللہ خامنہ ای کو اپنا امام مانتے ہیں.
تاہم مشرکین ایران میں اہل تشیع کے دیگرشرکی مکاتب فکر بھی موجود ہیں۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 22/07/2011 by daaljan

خفیہ امریکی ذرائع نے اپنی حالیہ رپورٹس میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ اسرائیل، امسال ستمبرمیں مشرکین ایران پر فوجی حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری کر رہا ہے تاکہ یو این میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ووٹنگ کو روکا جا سکے۔
اس امر پر تبصرہ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اگر اقتصادی پابندیوں کے مطلوبہ نتائج نہ نکلے تو ایسی صورت میں فوج کارروائی خارج از امکان نہیں۔
فوجی کارروائی کی تلوار کے بغیرمشرکین ایران پر اقتصادی پابندیاں غیر موثر ہوں گی۔ لہذا فوجی کارروائی لازمی آپشن ہونا چایئے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ سنہ 2003ء میں مشرکین ایران اس وقت تک اپنے خفیہ جوہری منصوبے پر کام بند نہیں کیا جب تک امریکا نے تہران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں نہیں دیں۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 20/07/2011 by daaljan

دجال اور اس کے حواریوں کے بارے میں جو صحیح احادیث آئی ہیں ان ميں سے اکثر کا تعلق موجودہ مشرکین ایران کے شہروں کے ساتھ ہے۔
دجال کا خروج اصفہان سے ہوگااور اس کے ساتھ ستر ہزار اصفہانی یہودی ہوں گے۔ خوز اور کرمان کے بارے ميں بھی صحیح روایات گزر چکی ہیں۔
ان احادیث کےکیا معنی لئے جائیں اور اس سے کیا سمجھا جائے؟اسکی دوصورتیں ہوسکتی ہیں۔
پہلی یہ کہ مشرکین ایران پر مکمل یہودیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔
دوسری یہ کہ حکومتیں اسی طرح رہیں گی لیکن اصل حکمران یہودی ہونگے۔
اس میں کوئی تعجب کی بات نہيں ہے۔ مشرکین ایران ميں یہودی قدیم زمانے سے بسے چلے آرہے ہیں۔
ان میں سے بعض قبیلوں نے بظاہر اسلام قبول کرلیا لیکن اصلا یہودی ہی رہے۔
ایسا ہی ایک فرقہ اصفہان،رفسنجان،مشہد اورمشرکین ایران کے دیگر اہم شہروں میں آباد ہے جو ”جدید اسلام”کے نام سے مشہو ر رہا ہے۔
اصفہانی یہودی تمام یہودی قبائل ميں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اصفہانی یہودی کئی مرتبہ حکومت اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر چکے ہیں،جس میں اسرائیل نے انہیں اسرائیل ميں آکر بسنے کی دعوت دی تھی۔
چنانچہ ایرانی یہودیوں نے اسرائیل کے بجائے امریکہ اور فرانس جانے کو تر جیح دی۔
ایرانی یہودی ”حاخام یدید یا شوفط” کو اپنا روحانی باپ مانتے ہیں۔ یوں تو مشرکین ایران کی یہودی ماؤں نے ایک سے ایک بڑا یہودی جنا ہے۔
لیکن یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف دو یہودیوں کا ذکر مناسب ہو گا۔
ابراہیم نا تھان المعروف ملا ابراہیم[۱۸۶۸-۱۸۱۶] اور آغاخان اول[۱۸۸۱-۱۸۰۰]۔
ملا ابراہیم نے بخارا،ترکستان،کابل اور ہندوستان ميں مسلمانوں کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جبکہ آغاخان خاندان پہلے ہندوستان پھر پاکستان کے مسلمانوں کےنصیب میں آیا۔
آغاخان اول مشرکین ایران ميں کرمان صوبے کا گورنر تھا۔۱۸۴۰میں پورے مشرکین ایران پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکا م رہا۔
مشرکین ایران سے بھاگ کر ہندوستان چلا گیا۔ تقسیم کےبعد یہ خاندان کراچی آگیا۔
اگر آپ یہودیوں کی مخصوص علامات اور رنگوں کے بارے ميں جانتے ہیں تو اصفہان میں آپکو ہر جگہ یہ بڑی تعداد ميں ملیں گی۔
نقش و نگار ،نیلے ٹا ئیلز سے بنی امام بارگاہیں، ان پر مخصوص علامتیں۔
اصفہانی یہودی مشرکین ایران کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 20/07/2011 by daaljan

مشرکین ایران سے یہودیوں کی محبت کی وجہ تاریخي ہے۔
یہاں حضرت دانیال علیہ السلام کا مقبرہ ہے،حضرت بنیامین کا جسد ہے۔
نبی سارا بت آشر کا مقبرہ بھی اصفہان میں موجو د ہے۔
ایک اور نبی استرو مری خای،کامقبرہ ہمدان میں ہے۔
اصفہان ہی کے اندریہودیوں کا بہت بڑا مرکز قائم ہے۔
مشرکین ایران کی پالیسیوں میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جومشرکین ایران کے ظاہری تشخص کے بالکل برعکس ہیں۔
مشرکین ایران امریکہ تجارتی تعلقات،مشرکین ایران بھارت گہری دوستی کی جڑیں حتی کہ پاکستان سے بھی زیادہ۔
افغانستان پر امریکی قبضے پر خاموشی بلکہ اب امریکہ کے ساتھ خفیہ تعاون۔
پاکستان کے اندر اسٹیٹ کے خلا ف شیعوں کو استعمال کرنا،پاک بھارت تنازعات میں پاکستان کا ساتھ نہ دینا وغیرہ۔
مشرکین ایران اور حزب اللہ: مسلہ فلسطین کے بارے ميں اگر ہم گہرائی سے ایرانی پالیسی کا جائزہ لیں تو یہ اردن و مصر کی پالیسی سے بالکل مختلف نہيں ۔
فرق صر ف بیان بازی کا ہے۔ لبنان کی حزب اللہ کو ایرا نی حمایت مشرکین ایران کو اور زیادہ مشکوک بنادیتی ہے۔
کیونکہ حزب اللہ وہ تنظیم ہے جس کی پرورش اسرائیلی خفیہ ایجنسی ”موساد”کرتی ہے۔
تاکہ لبنان میں موجود حقیقی مجاہدین کو اسرائیل کے خلاف کاروائیوں سے روکا جاسکے۔
بالکل اسی طرح جیسے عراق ميں سی آئی اے نے مقتدالصدر کی مہدی ملیشیا کو القاعدہ کے مقابلے ميں کھڑا کیا۔
یہ باتیں اخبارات پڑھنے والوں کے لئے شاید اچنبھے کی ہوں لیکن جن لوگوں کے پاس میدان جہاد سے خبریں آتی ہيں وہ حزب اللہ کو اسی طرح جانتے ہیں جیسے کہ موساد کو۔
اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ جنگ ایک ڈرامے کے سوا اور کیا تھی۔
جسکا مقصد عرب مجاہدین کی توجہ عراق سے ہٹاکر لبنان کی طرف کرناتھا۔ دوسرا مقصد عالم اسلام خصوصا عرب دنیا میں القاعدہ کی بڑھتی مقبو لیت کو روک کر حزب اللہ کو اسکے ہم پلہ ثابت کرناتھا۔
اس جنگ کی تفصیل کا اگر آپ مطالعہ کریں تو خود آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک سٹیج ڈرامہ تھا.
جسکی کہانی وشنگٹن اور تل ابیب میں لکھی گئی اور ہیرو کا کردار بیروت کے آرام دہ کمرےمیں بیٹھے حسن نصراللہ کو سونپا گیا۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 20/07/2011 by daaljan

۱
۔ مشرکین ایران کی خارجہ پالیسی خصوصا عسکریت سے متعلق ، ایرانی یہودی بناتے ہیں۔
۲۔ یا پھر ایرانی رافضی حکومت عالم اسلام کے مسائل کو اسلامی نقطہ نظر کی بجائےمسلکی یعنی شیعی نقطہ نظر سے دیکھتی ہے اور اسی کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی بناتی ہے اور وہ کبھی یہ نہیں چاہتی کہ کوئی سنی تنظیم کہیں بھی مضبو ط ہو۔
جسکی وجہ سے اسکی پالیسی اکثر یہودی مفادات کو پروان چڑھانے کا باعث بنتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ضیا ٫ الحق کے دور ميں پاکستان کی آئی ایس آئی کی کامیابیاں مشرکین ایران کو کبھی اچھی نہيں لگیں۔
مزید سمجھنے کے لئے سعود ی عرب ،فلسطین،عراق ،افغانستان اور پاکستان کے بارے ميں ایرانی پالیسی کا مطالعہ کافی ہے۔
اگر مشرکین ایران کی موجودہ معاشی،اقتصادی اور عسکری صورت حال کا جائز ہ لیں تو اس ميں یہودی اثرات بہت نمایا ں نظر آتے ہيں۔
اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ مشرکین ایران کا موجودہ صدر محمود احمدنزاداعلی پائے کا فریمیسن ہے تو یقینا آپ چونک جائیں گے۔
اس کے علاوہ چند باتیں اور سنتے چلئے: مشرکین ایران کا سرکاری نشان کیا ہے؟ آپ اس کے جھنڈے پر دیکھ سکتے ہیں۔
پھر اس نشان کی حقیقت بھی خود ہی تلاش کر لیجئے۔ یہ نشان یہودیوں کے ہاں جادو میں بڑا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
مشرکین ایران کے سرکاری طیارے پر ”شیطان بزرگ” کی تصویر بنی ہوئی ہےجو کہ سرکاری نشان ہے یہ ڈریگون ہے۔
دھڑ سے نچلا حصہ مچھلی اور اوپری حصہ ننگا بوڑھا ہے جس کے سر پر ابلیس کا تاج رکھا ہو اہے۔
یہ رزق کا خدا ہے۔ یہودیوں کے ہاں ۲۵۰۰ قبل مسیح سےپوجا جاتا ہے۔
مشرکین ایران کے بارے میں عام طور پر یہ خيال ہے کہ وہاں اسلامی طرز حکومت ہے۔
یہ بھی دجالی میڈیا کا فریب ہے۔ جو لوگ مشرکین ایران ميں رہ کر آئے ہیں آپ کبھی ان سے مشرکین ایران کے”اسلامی معاشرے” کے بارے ميں پوچھئے گا۔
جتنے گناہ مشرکین ایران کے اندر ہیں شاید کئی مغربی ملکوں میں نہ ہوں۔
البتہ مشرکین ایران ميں ہر چیز اسلام لیبل لگا کر فروخت کی جاتی ہے۔
شرا ب ہو یا شباب۔۔۔۔۔سود ہو یا حجاب۔۔۔۔۔ہر چیز پر اسلام چسپاں کر دیا گیا ہے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 19/07/2011 by daaljan
Posted on 18/07/2011 by daaljan

خلیجی ریاست کویت کے ایک ممتاز دانشور اور سیاسی امورکے ماہر صالح السعیدی نے خلیجی ممالک کے شام کے داخلی بحران بارے اختیار کردہ موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشرکین ایران نے صدر بشار الاسد کو عوامی انقلاب سے بچا لیا تو یہ تہران کی خلیجی ممالک پراسٹریٹیجیک فتح ہو گی،
جس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں طویل عرصے تک ایرانی اثر و نفوذ میں آجائیں گی۔
العربیہ ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کویتی دانشور نے کہا کہ “موجودہ حالات میں خلیجی ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ مشرکین ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی اپوزیشن کا کھل کر ساتھ دیں۔
شام کے بحران میں جس طرح مشرکین ایران صدر بشار الاسد کو بچانے کی کوششیں کر رہا ہے.
تو خلیجی ممالک کو اپنے اسٹریٹیجیک مفادات کی خاطر شامی اپوزیشن کی حمایت میں آگے آنا چاہیے کیونکہ خلیج کے پاس دمشق ہی موجودہ حالات میں ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے تہران کے اثر و نفوذ کو روکا جا سکتا ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں منجھے ہوئے کویتی سیاسی مبصر السعیدی نے کہا کہ انقلابی تحریک کے باعث صدر اسد کی حکومت سخت قسم کی مالی تنگ دستی کا شکار ہے۔
مشرکین ایران، دمشق کی مدد کو آگے آ رہا ہے۔ مشرکین ایران کی جانب سے شام کی مالی مدد کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ یہ نہ صرف متوقع تھی بلکہ یہ امر یقینی تھا کہ مشرکین ایران اپنے اسٹریٹیجیک حلیف بشار الاسد کی ضرور مدد کرے گا۔
تہران کی جانب سے دمشق کی مدد مشرکین ایران کی مجبوری تھی کیونکہ مشرکین ایران کے خلاف عرب بغاوت کو صرف دمشق حکومت ہی روکے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ کویتی دانشور نے مشرکین ایران کی دمشق کے لیے امداد کا تذکرہ ایک ایسے وقت میں چھیڑاہے.
جب حال ہی میں ایک فرانسیسی اخبار”لیز اکوز” نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ تہران نے دمشق کے لیے 05 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
نقد امداد کے علاوہ شیطان اعلیٰ لعنت اللہ علی خامنہ نے دمشق کے لیے یومیہ 02 لاکھ 90 ہزار بیرل خام تیل کی فراہمی کی بھی منظوری دی ہے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 18/07/2011 by daaljan

مشرکین ایران نے عرب ممالک میں اپنے سب سے بڑے اسٹریٹیجیک حلیف شامی صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے بھاری رقوم اور تیل کے ذریعے مدد کا اعلان کیا ہے۔
مشرکین ایران کے اس امدادی پیکیج کا انکشاف فرانسیسی اخبار”لس اکوز” نے تہران سے موصولہ خفیہ معلومات کے حوالے سے کیا ہے۔
اخبار کو یہ خفیہ اطلاعات شیطان اعلیٰ لعنت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے زیر انتظام اسٹریٹیجیک اسٹڈی سینٹر سے ملی ہیں۔
ان اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ لعنت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کے روز اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر بشار الاسد کے لیے 05 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی نقد امداد کا اعلان کیا۔
یہ رقم شام میں عوامی انتفاضہ کے نتیجے میں کمزور ہوتی بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرکین ایران کی جانب سے یہ بھاری امدادی پیکیج دمشق اورتہران کے درمیان طویل اسٹریٹیجیک تعلقات کا ثمر ہے،
کیونکہ دیگرعرب ممالک کے برعکس شام مشرق وسطیٰ کا واحد عرب ملک ہے جس نے مشرکین ایران سے مخاصمت کے بجائے گہرے دوستانہ تعلقات قائم کر کر رکھے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی”رائیٹرز” کے مطابق چارہ ماہ سے صدر اسد کے خلاف جاری عوامی احتجاج کی تحریک نے ملکی معیشت کی چولیں ہلا دی ہیں۔
تیل کی پیداوار اور اس کی درآمدات و برآمدات نہ ہونے کے برابرہے نیز دمشق پر عائد کی گئی عالمی پابندیوں کے باعث دوسرے ممالک سے تجارت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
ایسے میں مشرکین ایران کی جانب سے دمشق حکومت کے لیے امداد کا اعلان صدر اسد کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرکین ایران پانچ کروڑ اسی لاکھ ڈالرز کی رقم چار قسطوں میں دمشق کو فراہم کرے گا۔
فوری طور پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز ادا کیے جائیں گے، جبکہ بقیہ رقم اگلے تین ماہ میں ادا کی جائے گی۔
تیل کے ذریعے مدد
فرانسیسی اخبار “لس اکوز” نے تہران اسٹریٹیجیک اسٹڈی سینٹر سے حاصل کردہ خفیہ معلومات کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرکین ایران نے نقد امداد کے علاوہ معدنی تیل کی صورت میں بھی دمشق کی مدد کا اعلان کیا ہے۔
مشرکین ایران، اگست سے شام کو یومیہ 02 لاکھ 90 ہزار بیریل خام تیل بھی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ تہران کی جانب سے شامی حکومت کولبنان کی سرحد پر نگرانی کے لیے جدید آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ مشرکین ایران کی جانب سے دمشق کی امداد کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بشار الاسد کی حکومت کو اندرون اور بیرون ملک سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔
مشرکین ایران شامی عوام کی احتجاجی تحریک کو نظر انداز کرتے ہوئے صدر اسد کی حمایت کر رہا ہے۔
ایک ماہ پیشتر ایرانی شیطانی پیشوا لعنت اللہ خامنہ ای نے اپنی جمعہ کی ایک تقریر میں خلیجی ریاست بحرین میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی حمایت کی تھی جبکہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی انتفاضہ کو “سازش” قرار دیا تھا۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »
Posted on 17/07/2011 by daaljan

ایرانی محکمہ خارجہ کے دو اعلیٰ رافضی عہدیداروں نے عربوں کے بارے میں نہایت نامناسب ریمارکس دیتے ہوئے انہیں “بد تہذیب”، گنوار اور جنگلی درندے جیسے القابات دیے ہیں، جبکہ عربوں کے مقابلے میں اسرائیل کو مشرک ایرانیوں کے لیے قابل احترام قراردیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے دو عہدیداروں محمد رضائی اور مہدی صفری کے یہ ریمارکس ناروے کے ایک اخبار “ڈاگ بلاگ” میں شائع ہوئے ہیں اورانہیں ایک ڈینش میگزین”ویک اینڈ” نے بھی نقل کرکے شائع کیا ہے۔
ایرانی محکمہ خارجہ کے عہدیدارو ں نے اہل عرب اور مشرک ایرانیوں کے درمیان کسی قسم کے تہذیبی و ثقافتی تعلق کی نفی کی اور کہا کہ مشرک ایرانیوں کا عربوں سے کوئی تہذیبی رشتہ نہیں۔عرب ایک بدو اور جاہل قوم ہیں۔
یہ لوگ تہذیب سے ہمیشہ نا آشنا رہے ہیں۔عربوں کی تہذیب قطر اور بحرین جیسے ممالک کے تیل کے ارگرد گھومتی ہے جس پر یہ لوگ فخر کرتے ہیں۔
اسرائیل اورمشرکین ایران کے درمیان قربت کا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے اسرائیل ایک قابل احترام ریاست ہے،
ہماری ہمدردیاں عربوں کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ مشرکین ایران کے اسرائیل دشمن پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ تہران تل ابیب کی مخالفت اس لیے کرتا ہے تاکہ عالم اسلام کی ہمدردیاں حاصل رہیں ورنہ مشرکین ایران کا عرب ملکوں سے کوئی علاقہ نہیں۔
فارسی اور عربی زبانوں کے باہمی تعلق سے متعلق سوال پر ایرانی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں نے کہا کہ فارسی زبان کا عربی سے دور دور تک کا بھی تعلق نہیں۔
فارسی یورپی اور آریائی زبانوں کی اولاد ہے اور یہ ہندی ، جرمن اور دیگر زبانوں سے مل کر بنی ہے۔
ایرانی شہر انبہار کا حوالہ دیتے ہوئے مہدی صفری نے کہا کہ مشرکین ایران کا یہ تہذیبی شہر آریائی اقوام کی یاد تازہ کرتا ہے،
جو اس بات کی علامت ہے کہ مشرکین ایران اصلا یورپ کی قدیم آریائی تہذیب کی باقیات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرک ایرانیوں کے اپنےآریائی ہونے پر فخرکا ایک ثبوت سابق جرمن ڈکٹیٹر اڈوولف ہٹلر کی کتاب”میری جدوجہد” کی مشرکین ایران میں مقبولیت سےہوتا ہے۔
اس کتاب میں ہٹلر بھی آریائی نسل کی اولاد ہونے پر خود پر بر ملا فخر کرتا ہے اورمشرک ایرانی بھی اس پر اسی لیے فخر کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ یورپی ممالک ناروے، سویڈن اور ڈنمارک بھی خود کو آریائی نسل کے باشندے قراردیتے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے خلاف جرمن ہٹلر کی مدد کی تھی۔
اخبار “ویک اینڈ” لکھتا ہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کے متنازعہ بیانات کا اصل مقصد مشرکین ایران اور عرب ممالک کے درمیان تہذیبی فرق بیان کرنا نہیں بلکہ وہ اقتصادی پابندیوں کے باعث مشرکین ایران کی موجودہ تنہائی کو دور کرتے ہوئے یورپین کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اخبار لکھتا ہے کہ ایرانی عہدیداروں نے ا پنے صدرمزدور نژاد کی پالیسی کی خود ہی نفی کی ہے۔
ایرانی حکام کے بہ قول وہ اسرائیل کا احترام کرتے ہیں ۔
ورنہ ایرانی صدر کے اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کے پس پردہ کوئی خاص محرک نہیں۔
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سنہ 1979ء کے ملعون خمینی کے برپا کردہ شیطانی انقلاب کے بعد اسرائیل کی مخالفت ایرانیوں کی مجبوری بن چکی ہے۔،
کیونکہ ما بعد شیطانی انقلاب مشرکین ایران خود کوعالم اسلام کا لیڈر خیال کرتا ہے۔
ایک لیڈر کو اپنی قوم کی حمایت درکار ہوتی ہے اورمشرکین ایران عرب ممالک اور مسلم دنیا کی حمایت کے حصول کے لیے اسرائیل کی تباہی کے نعرے بلند کرتا ہے۔
Filed under: Uncategorized | Leave a Comment »